(in urdu), خواتین وحضرات

  • میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے مجھے یہاں پیش ہونے کی دعوت دی اور یہ موقع فراہم کیا۔ آج کے اجلاس کا مقصد اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مددکرنا ہے کہ „کیا ہمیں اسلام سے خوفٖزدہ ہونا چاہئے؟“ میں اس سوال کا براہ راست جواب دیتی ہوں ۔ ہمیں یقیناً اسلام سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے جیسے یورپی تہذیب نے ان تمام مطلق العنان اور غیر انسانی حاکمیتوں کے ساتھ کیا جن کا اسے اپنی دو ہزار سالہ تاریخ میں مجبوراً سامنا کرنا پڑا۔ اسے اسلام کے خلاف جنگ کرنی چاہئے، اسےجیتنا چاہئے، اور اس کے پھیلاؤ کوہمیشہ کے لیے روکنا چاہئے جس طرح پہلے ایسے ظالمانہ نظریوں کے ساتھ کیا، اور اسے اسلام کی بقاء ہی کو ایک جرم اور انسانی فطرت ، آزادی اور بالخصوص احترام انسانیت سےمتصادم قرار دینا چاہئے۔

    چونکہ اسلام انسانی فطرت، آزادی، اور احترام انسانیت سے اسی طرح سے متصادم ہےجیسے کہ نازی ازم، فاشزم، اور کمو نیزم ہوا کرتی تھیں۔ اور یہی حقیقت ہے، تاہم اسلام ایک مذہب کے بہروپ میں چھپا ہوا ہے، جبکہ دراصل بنیادی طور پر یہ ایک مجرمانہ ریاستی نظریہ اور ناقابل اصلاح طرز حکومت ہے۔

    اسلام دو وجوہات کی بناء پر ایک مذہب ہونے کا بہروپ دھارتا ہے۔ پہلی وجہ اسلام کی وہ تاریخی ابتدا ہےجس نے مذہب کے علاوہ کسی بھی دوسرے نظریاتی اظہار کی ممانعت کر دی گئی تھی۔ حتیٰ کہ پرانے دور کے یونانیوں نے بھی ریاستی مذہب سے آزاد فلسفیانہ تصورات کی تخلیق کی اجازت نہیں دی تھی،جیسے کہ سقراط ہمیں بتاتا ہے۔ اور ساتویں صدی میں اس دور کی مہذب دنیا کے ایک سرے پرتومذہبی طرز کے علاوہ کسی دوسرےتصوراتی نمونے کی تخلیق کا امکان اور بھی کم تھا۔

    دوسری وجہ جس کی بنیاد پر آج اسلام ایک مذہب ہونے کا بہروپ دھارتا ہے یہ اس کا مستقل، دانستہ، اور با مقصد انداز میں یورپی وامریکی قانونی نظام اور اقدار کوگالی دینا ہے، جنہیں عیسائی و یہودی بنیادوں پربننے والی ان تہذیبوں نے حاصل کیا۔ دشمن کے نظام اقدار کو گالی دینے سے بہتر اور با اثر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہو سکتا، بالخصوص جبکہ ایسے نظام میں خوداپنی شمولیت کرنا درکارنہیں ہوتی۔ اور اسلام بالکل اسی طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہ اپنی حفاظت ہماری روایات کے مطابق مانگتا ہے، اور پھر اس کاناجائز فائدہ اٹھاتا ہے، بجائے ایسےہی جوابی رویے پر رضامند ہونے کے۔ یہ ہماری روایات پربھروسہ کرتے ہوئے ان کی بنیاد پردرخواست کرتا ہے، اور پھر ہمارے نظام اقدار کاہماری پیٹھ کے پیچھے مذاق اڑاتا ہے۔

    آئیں سب سے پہلےیہ دیکھیں کہ کیوں یہ بالکل درست ہے کہ اسلام کوایک مطلق العنان حاکمیت کے مترادف سمجھا جائے۔ اگرچہ اسلام خود کوایک مذہب قرار دیتا ہے، یہ بنیادی طور پر ایک مطلق العنان طرز حکومت ہے جس میں خدا کو صرف ایک علامتی مقام حاصل ہے، جبکہ اسلام کا زیادہ تر مواد حکومت کی تنظیم سازی پر ہے۔ عیسائیت ، ہندومت، بدھ مت، تاؤمت، اور شنتو مت کے برعکس اسلام کا مرکزی حصہ قانون ہے، یعنی اسلام کا قانون شریعت۔ یہ اسلامی نظریے کا ایک لازمی عنصر ہے، اور اس سے ناقابل جدا ہے۔ یہ اسلام کا سب سے زیادہ مرکزی مواد بناتا ہے، جبکہ وہ قوائد جنہیں مذہبی اور اخلاقی قرار دیا جاتا ہے اس نظریے کا محض ظاہری اور ثانوی حصہ ہیں۔ اسلام مذہب کو ایک ذاتی معاملہ، اور ہر فرد کا ذاتی مسلئہ سمجھنےکے تصور کو ہر گز قبول نہیں کرتا۔ جبکہ یہی وہ اصول ہےجس پر جدید عیسائیت، اور عیسائیت کی بنیاد پر بننے والی تہذیبیں قائم ہوئی ہیں۔ چرچ کی تھوڑی بہت معاونت کے ساتھ فرد اور خدا کے درمیان ایک ذاتی تعلق۔ حتیٰ کہ ہماری تہذیب کے وہ ارکان جو خود کو لامذہب قرار دیتے ہیں، جو اصرار کرتے ہیں کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے، غیر ارادی طور پراپنےنقطہ نظرکوعیسائی روایات کی بنیاد پر رکھتے ہیں، جبکہ یہ روایات یا تو لوک ریتوں کی شکل میں ہوتی ہیں، یا پھر زندگی کے عام فہم ثقافتی عناصر کی شکل میں، جس کے نتیجے میں وہ یورپ اور امریکہ کےعمومی عیسائی مزاج میں بھی شراکت رکھتےہیں۔ مجھے ایک بار پھر آپ کو یاد دلانا چاہیے کہ یہ رویہ اسلام کے لیے ناقابل قبول ہے، اور اسلام اس کی مذمت کرتا ہےاور اسے ایک جرم قرار دیتا ہے۔ اسلام خدا پر ایمان کے انفرادی تصورسے انکار کرتا ہے، اور مطلق العنان طریقےسےاس پر کسی بھی شک و شبہ کو ممنوع قرار دیتا ہے۔اگر کوئی یہ یقین رکھتا ہے کہ ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ یہ فیصلہ کریں کہ مطلق العنانیت اور زبردستی غلبہ کیا ہے، اور ہم اسلام کے بارے میں ایسا کہنے کا حق نہیں رکھتے، تو میں یہ کہوں گی کہ میں اس ملک میں رہتی ہوں جو 300سال تک غیرملکی تسلط میں رہا، اور جو پچھلے 78میں سے 48 سال مطلق العنان حکومتوں کے ماتحت رہا ہے، جسکی بناء پر ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ مطلق العنانیت اور زبردستی غلبہ کیسا ہوتا ہے، اور ہم اسے پہلی ہی نگاہ میں پہچان جاتےہیں ۔ میرےپاس یہ حق اور قابلیت موجود ہےکہ میں اسے پہچانوں اور اس پر اپنا فیصلہ دوں۔

    اسلام مستقبل کی سماجی ترقی کے روشن خیال یورپی تصور میں شریک نہیں ہوتا۔ اسلام یہ سمجھتا ہے کہ اچھے وقت پرانے دور میں محمد کے زمانے میں پہلے ہی جا چکے ہیں۔ جو بھی بہترین ہو سکتا تھا وہ پہلے ہی ہو چکا، اور سب سے بہترین اور واحد بامعنی تحریر پہلے ہی قرآن کی شکل میں لکھی جا چکی ہے۔ اسلام بنیادی طور پرعبرانی انجیل کی کتاب „مبلغ“ پر مبنی مذہب ہے، جو محمد سے ایک ہزار سال قبل بیان کرتی ہے کہ:

    „انسان کو سورج کے نیچے اپنی نہ ختم ہونے والی محنت ومشقت کا کیا فائدہ؟ نسلیں جاتی ہیں، نسلیں آتی ہیں، لیکن زمین ہمیشہ چلتی رہتی ہے“

    یہودیت، عیسائیت، اور ان مذاہب سے اُٹھنے والی تہذیبیں اس ناجائز شک و شبہ اور انسان کے اپنے ہی بارے میں اس توہین آمیز رویے سے باہر نکل چکی ہیں۔ لیکن اسلام معرفت خدا کا ایک پیدائشی مردہ بچہ ہی رہا ہے، جو کائنات میں دوبارہ شامل ہونے کی خوفناک طور پرمسخ شدہ اوربدنما خواہش کی شکل اختیار کر گیا، ایک ذہنی معذورانہ، جنونی و نفسیاتی پاگل پن پر مبنی تصور کی شکل میں کہ اس کا منفرد راستہ ہی انسان کے خدا سے روحانی ملاپ کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس گمراہ کن تصور ہی کے نتیجے میں اسلام مادیت کو مکمل اور بھرپور طریقے سے برائی کے طور پہچانتا ہے، اور نتیجے کے طور پر ہماری تہذیب کو توہین کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو کہ مادیت پر مبنی اور لازمی طور پر برائی سمجھی جاتی ہے جو خدا کے ساتھ متصادم ہے۔ مسلمانوں کا حقیقی المیہ یہ ہے کہ اس اندھے راستے پر پاؤں رکھنے کے ساتھ ہی اسلام ان پر خدا کے دروازے ہمیشہ کے لیےبند کردیتا ہے۔

    ذہنی دباؤ، موت، انسان کی انفرادی اور ناقابل تبدیل قدروقیمت پر شک و شبہ، اور انسان کے مذہب، سماجی مرتبے، جنس، اور قومیت سے بالا تر ہو کر اس کی انفرادی عزت پر بے یقینی ہی اصل میں اسلام ہے۔ اسلام فلسفہ کو مسترد کرچکا ہے، جسے ہم حقائق کو منطقی اور تنقیدی انداز میں دیکھنے کے موقع کے طور پر جانتے ہیں۔ اسلام کا یہ نقطہ نظر اسے انسانی آزادی و احترام، اورفرد اور حکومت کے کردارسے متعلقہ مسائل پرغوروفکر کرنے سے روک دیتا ہے، حتیٰ کہ الٹا خدا ہی کے بارے میں غوروفکرکرنے سے منع کرتا ہے، جو کہ یورپی وامریکی تہذیب کے سیاق و سباق میں معروف سائنسدانوں، ماہرین فلکی طبیعیات، ریاضیات، یا حیاتیات کے سوچنے کے عمل کا لازمی عنصر ہے جن کی تحقیق کے نتائج کائنات کی نوعیت کو چھوتے ہیں ، اور خدا کےجوہرکو بھی۔ تمام مسلمانوں کے لیے یوم حساب سے قبل خدا سے براہ راست رابطے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہے، جبکہ ان کے اپنے نظریے کے مطابق ان کا خدا سے رابطہ محمد کی وفات کے نتیجے میں بند ہو گیا تھا۔ ان کی زندگی کتنی زیادہ بیقرار ہونی چاہئے اگر وہ بنیادی طور پر صرف موت کا انتظار کررہے ہیں!

    اسلام میں زمان ومکان کی اس مکمل عدم حرکت کا ثبوت اس حقیقت سے ملتا ہے کہ سب سے زیادہ تباہ حال وہ اقوام ہیں جو مسلمانوں کے نظریے میں مبتلا ہیں۔ یہ وہی اقوام اور ان کے ارکان ہیں جن کی اس مایوس کن اور جعلی مذہبی صورتحال کی بناء پربےتوقیری ہوتی ہے، اور جو بحیثیت انسان اپنی قدرتی طور پر حاصل صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر پاتے، جس کی وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال روسیوں جیسی ہے جو کہ سب سےزیادہ قابل رحم طور پر اور سب سے بڑی تعداد میں کمونیزم کا شکار ہوئے، جبکہ مطلق العنان کمونیزم روس سے ہی شروع ہوئی، اور اسی طرح سے جرمنی کے لوگ جرمن نازی ازم کا سب سے پہلا شکار ہوئے، اور عرب اور دوسری اقوام جہاں مسلمانوں کا غلبہ ہےوہ غیر انسانی اور مطلق العنان اسلام کی وجہ سے سب سے زیادہ تباہ ہوئیں ہیں۔ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے ان تمام لوگوں سے اظہارہمدردی کرنا چاہوں گی ، اور خصوصاً مسلمان عورتوں سےجواس کا سب زیادہ شکار ہو تی ہیں۔

    تاہم مسلمانوں کے لیے تباہی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، کیونکہ انہیں اصلی انسانی فطرت پر رہنے سے روک دیا گیا ہے، جو کہ ترقی وبہتری ہے۔ اسلام ترقی، بڑہوتری، اور انسانیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس راستے پر چلتے ہوئے مسلمان اپنی مایوسی میں باقی ماندہ انسانیت اور دوسری تہذیبوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اسلام کے نقطہ نظرسے باقی دنیا بےمقصد، غیر ضروری، اور نا پاک ہے۔

    اسلام اور اس کی شریعت کا قانونی نظام یورپی قانون کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ خصوصاً وہ حقوق جو کہ“انسانی حقوق اوربنیادی آزادیوں کے معاہدہ“ میں مکمل طورسرایت شدہ ہیں۔ اس وجہ سےیہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے قانون دان اسےدیکھ نہیں سکتے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خاموش ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے مذکورہ معاہدے کی شق9 کے حوالے سے مسلمانوں کی تمام تر ضروریات کوتسلیم کر لیا ہے، جوکہ سوچ، ضمیر، اور مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان ہماری دنیا میں اس قانونی نقطے کے مطابق اپنی حفاظت کی درخواست کر سکتے ہیں، لیکن ہمارا قانونی نظام اسی طرح کی حفاظت ایسی رائے، خیالات، اور مذہبی عقائد کو نہیں دیتا جو اسلام سے متصادم ہیں؟ کیا ہمارے قانون دان صرف چوہدویں ہی کو شمار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جب معاہدے کی شق 14 بیان کرتی ہے کہ مذکورہ معاہدے میں تسلیم شدہ حقوق اور آزادیوں کے استعمال کو کسی جواز کی بناء پر پیدا ہونے والے تعصب کے بغیر یقینی بنایا جائے؟ میں آپ سب کو یقین دلاتی ہوں کہ ہم کم از کم سترہویں پربھروسہ کر سکتے ہیں، جب معاہدے کی شق 17بیان کرتی ہے کہ:

    „اس معاہدے کی ایسی کوئی تشریح نہیں کی جا سکتی کہ یہ کسی ریاست، گروپ، یا افراد کو یہ حق دیتاہےکہ وہ ایسی سرگرمیوںمیں ملوث ہوں، یا ایسے اعمال کا ارتکاب کریں جن کامقصداس میں تسلیم شدہ حقوق اور آزادیوں کو تباہ کرنا ہو، یا ان حقو ق اور آزادیوں کو معاہدے کےمتعین کردہ دائرہ کار سےباہرنکل کر انہیں محدود کرنا ہو۔“

    معاہدے کی اس شق کو ونسٹن چرچل نے ذاتی طور پر ایک خصوصی وجہ سےشامل کروایا تھا، تاکہ مطلق العنان حکومتوں سے حفاظت حاصل ہو سکے۔ اس کے اپنے ذہن میں اس وقت کی کمونسٹ حکومتیں تھیں۔ میرے ذہن میں اسلام ہے، جو کہ اتنا ہی مطلق العنان اور خطرناک ہے جتنی کہ وہ حکومتیں جن کے خلاف ونسٹن چرچل نے جنگ کی اور فتح حاصل کی۔ شق17کی حفاظت کسی بھی اس طرح کے نظریے کے خلاف درست طور پر عمل کرتی ہے، اور اس حقیقت کہ یورپی ممالک ، جو اس معاہدے کی پاسداری کے پابندہیں، نے ابھی تک اسے لاگوکرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یہ ممالک فقط بہت زیادہ مہربان ہیں، اور اس قیمت سے نہایت با خبر ہیں جو انہوں نے انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام کو پہچاننے کے لیے ادا کی، اور انتہائی صبرکا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دنیا کے اپنے تصور سے یورپی لوگوںکوخوفزدہ کرنےکا فیصلہ کرنے والے مسلمان ممالک اور رہنماؤں کا یہ مفروضہ بالکل غلط ہے کہ یورپ کی اس بے پروائی کی وجہ اس کی کمزوری ہے۔ یورپ اپنی رائے اور دنیاوی تصورپر کروڑوں انسانوں کے شکارہونے کے بعد پہنچا ہے، ایک ایسی قیمت جس کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔

    یورپ اب مسلمانوں سے بار بار یہ پوچھ رہا ہے: „کیا تم ہمارے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہو؟“ کیونکہ یہ کلیدی اور فیصلہ کن سوال ہے جس کا ہمیں جواب تلاش کرنا چاہئے، اور جس کا جواب صرف مسلمان اقوام ہی دے سکتی ہیں، بجائے
    اس سوال کے کہ کیا ہمیں اسلام سے خوفزدہ ہونا چاہئے!

    ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مسلمان اس سیارے کی باقی غیر مسلمان دنیا کے ساتھ پر امن شراکت داری نہیں چاہتے۔ ان کی دہشت گردانہ کاروائیاں، جن کا ارتکاب اعلانیہ طور پر اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اقوام اور لوگوں کے درمیان بھائی چارے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ چیخ چیخ کر اسلام اور اس کےقانونی نظام کے غلبے کیلئےکہتےہیں، اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے سامنے جھک جانا چاہئے۔ ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکتا کہ مسلمان خود کو ہم سے برتر نہیں سمجھتے: ہم یعنی تمام غیر مسلمان، ہم عورتیں، ہم جنس پرست، یا کوئی بھی مختلف جو قرآن کی سختی سے پابندی نہیں کرتا۔
    یورپ مسلمانوں کے پر امن بقائے باہمی کے ارادے کے بارے میں اس سوال کو تھوڑی اور دیر تک پوچھتا رہے گا۔ لیکن پھر اس سوال کی ہئیت بدل جائے گی اور یہ „کیا تم ہمارے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہو؟“ سے „کیا تم زندہ رہنا چاہتے ہو؟ کیا تم مسلمان چاہتے ہو کہ تم زندہ رہو“ میں تبدیل ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر اسلام کے دعویدار لوگ امن کے ساتھ زندہ نہیں رہنا چاہتے تو یورپ اور امریکہ وہی کریں گے جو وہ پہلے بھی دو مرتبہ کر چکے ہیں جب انہیں انسانی فطرت کیلئے خطرناک نظریوں سے خدشہ لاحق ہوا، یہ جنگ کریں گےاور دشمن کو نیست و نابود کر دیں گے۔ اس لڑائی میں بھی پچھلی جنگوں کی طرح بے پناہ سائینسی، تکنیکی، اور ٹیکنالوجی کی ترقی شامل ہو گی، جو کہ اس مرتبہ بلا شبہ توانائی میں مکمل آزادی کےحصول پر مرکوز ہو گی۔ مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ یہ کیسے ہو گا، شاید ٹوکوماک (نیوکلیائی ری ایکٹر) کو مکمل کرنے سےیہ ممکن ہو گا۔ شاید ہم قطب صفر سے توانائی حاصل کریں گے، یا شاید خلاء سے سیاہ مادے کا ایک ٹکڑا ہماری خدمت کرے گا۔ بہرصورت مسلمانوں کےپرتشدد اقدامات اور ان اقدامات سے اُٹھنے والی جنگ کے نتیجے میں اسلامی نظریے کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ اسلام پر صرف چندبدحال افراد یقین رکھیں گے، جو صحرا میں چھپتے پھریں گے جہاں سے غیر ضروری اور غیر مطلوب خام تیل ابل کر نہ ختم ہونے والی دلدل میں بدل رہا ہو گا، چند افراد جو دمشق کی گلیوں میں ماضی کی روشنیوں اور مکہ کی خوبصورتیوں کو اپنی مینڈک کی سی آوازوں میں یاد کریں گے، وہ شہرجن میں صرف دوزخ میں جانے کا سوراخ ہی باقی بچے گا۔ یہ چند گمنام افراد باقی انسانیت کی طرف سے گندگی سمجھ کرمسترد کر دیے جائیں گے، ایسے افراد کی طرح جو خدا کے راستے کو بھول چکے ہیں اور اسے کبھی نہیں پا سکتے، کیونکہ وہ اس کو حقارت سے دیکھتے ہیں جس سےہمارے خدا کو خوشی ملتی ہے، یعنی انسانیت۔ میری مراد تمام لوگ اور یہ تمام سیارہ ہے۔

    آج یہ خیالات ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں کہ یہ دراصل یورپ ہی ہے جسے اپنے مستقبل، اپنی ثقافت، اپنے فلسفے اور اپنے دنیاوی نظریے کے بارے میں خوف سے کانپنا چاہئے۔ نہیں ، بلکہ اس کے بالکل برعکس، مسلمانوں نے یہ
    بدخواہانہ اقدامات کرکےاپنی مکمل تباہی کی طرف پہلا قدم رکھ دیا ہے۔

    میں اس اجلاس کو استعمال کرتے ہوئے تمام مسلمانوں اورتمام ان ممالک کو جو اسلام کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں، یہ کہتی ہوں کہ : رک جاؤ ۔ تم غلط راستے پر ہو۔ تم اس راستے پر ہو جو خدا سے دور لے جاتا ہے۔ تم قاتلوں کے راستے پر ہو۔ تمہاری موت تمہیں خالق حقیقی اور سچے خداکی دنیا میں لے کر نہیں جائے گی، بلکہ کھوکھلے پن، گمنامی، اور بیکارگی میں لے جائے گی۔ تم میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچے گا اور لوگ تمہارےمبینہ مذہب کا نام صرف اس پرتھوک پھینکتے ہوئے لیا کریں گے، اور اس تھوک میں ان کامیاب، خوش و خرم، اور قابل تعریف لوگوں کے راستے کی گرد شامل ہو گی جن سے خدا حقیقی محبت کرتا ہے۔

    „شکست خوردہ دشمن “ ہے، میں تحریر ہے کہ: کیونکہ یوحنا کے مکاشفہ کے باب 12، جسکا عنوان

    „اور دیکھو ایک عظیم اشارہ آسمان میں نمودار ہوا: سورج کوپہنے ہوئی ایک عورت، جس کے پاؤں میں چاند اور جس کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج ہے“

    اس عورت کی نیلی چادریورپی یونین کے ہر جھنڈے میں اُڑتی ہے۔ بارہ ستاروں کا تاج یورپی یونین کےہر جھنڈے میں ہے۔

    مسلمانوں اب یہ سوال پوچھو کہ وہ سانپ یا اژدہا کون ہے جسے یہ حاملہ عورت اپنے پاؤں میں کچلتی ہے، اور جسے وہ شکست دیتی ہے، اور اس ابتدائی سوال کا درست جواب دینا مت بھولنا کہ „کیا تم زندہ رہنےکی خواہش رکھتے ہو؟“ اس کا درست جواب یہ ہے کہ پھراس صورت میں تمہیں ہمارے ملکوں میں ہمارے ساتھ ہمارے قانون کے مطابق زندہ رہنا سیکھنا ہو گا۔

Posted in Other languages

Napsat komentář

Vaše emailová adresa nebude zveřejněna. Vyžadované informace jsou označeny *

*

Všechny příspěvky
Archiv